" اُداسی بول پڑتی ہے "

Poet: ارسلان حُسینؔ By: Arsalan Hussain, Ajman

بہت بیزار لمحوں میں
تھَکی ہاری اُمیدیں
جب بھی لوٹ آتی ہیں
روایت کی حرارت سے
ہجر کی تشنگی بن کے
کسی دل کو جلاتی ہے
تو اُداسی چُپ نہیں رہتی

اُداسی بول پڑتی ہے

محبت کے صفینوں پر
صدائے آرزو دے کر
کسی ذات کے محور سے
بظاہر رُوبَرو ہو کر
جوابِ منتظر ہو کر
سماعت گُم سُم رہتی ہے
نہ کوئ آواز آتی ہے
تو اُداسی چُپ نہیں رہتی

اُداسی بول پڑتی ہے

منزل کی مسافت میں
کسی کے ہاتھ کو تھامے
اِک وسعت کے عالم میں
قدم جب خاک کو چھانے
حصولِ آرزو سے فقط
چند لمحیں ہی پہلے
اَنا کی برق آندھی میں
ہمسفر بچھڑ جائے
تو اُداسی چُپ نہیں رہتی

اُداسی بول پڑتی ہے

 

Rate it:
Views: 1003
24 Jun, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL