اپنی مرضی سے تری راہ میں جاں دی وشمہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیامرے جزبات کا آنکھوں میں دکھائی دینا
کتنا مشکل ہے سمندر کو رہائی دینا
میں نے کب راز محبت کو اچھالا جگ میں
زیب دیتا نہیں تجھ کو بھی برائی دینا
تو جو چا ہے تو یہاں ترک تعلق کر لے
شوق مجھ کو نہیں ایسے میں دہائی دینا
مجھ کو حالات ترے پاس جو لے آئے ہیں
اپنی شہزادی کو عزت کی کمائی دینا
جو مری عزت و حرمت کی گواہی دے دے
مرے مالک! مجھے ایسا کوئی بھائی دینا
اپنی مرضی سے تری راہ میں جاں دی وشمہ
کب یہ کہتی ہوں کہ تو میری صفائی دینا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






