اگر تم دو اجازت تو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Malaysiaابھی سرگوشیاں کرنی ہیں چپکے سے
اگر تم دو اجازت تو
مجھے دینا ہے نازک سے تمہارے ہاتھ پر پوسہ
اگر تم اجازت تو۔۔۔۔۔ تمہاری جھولی بھرنی ہے
نئے موسم کے پھولوں سے
اگر دو اجازت تو ۔۔۔۔۔تم اتنا کھکھلا کر ہنس پڑو
وہ بات کہنی ہے ۔۔۔زرا سا پاس آو تو
تمہارے کا ن میں کہہ دوں
مجھے تم سے محبت ہے
تمہیں پوری اجازت ہے مجھے جو کہنا چاہو تم،
مجھے کہہ سکتے ہو جاناں
مگر میں جانی ہوں تم، مجھے کیا کہنا چاہو گے
سنو جاناںَ
میں بتلا وٓں
مجھے تم سے محبت ہے
یہی تم نے بھی کہنا تھاِ مجھے تم سے محبت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






