!!!اے کاش
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, malaysiaاے کاش
تجھے میں قید کر لیتی،حسار چشمِ بینا میں
رہائی کو تری مشکل بنا دیتی
تجھے میں دل کے آنچل میں چھپا لیتی
تری رخصت کو دل سے میں بہت مشکل بنا دیتی
مجھے تو چھوڑ کر جانے کی کوشیش بھی اگر کرتا
مری بانہیں ترے جانے کا ہر رستہ
یقینا بند کر دیتیں، تجھے جانے نہیں دیتیں
لپٹ کر تیرے پیروں سے
تجھے ساکت بنا دیتی،تجھے جامد بنا دیتی
اے کاش
تجھے میں قید کر لیتی،حصار چشمِ بینا میں
رہائی کو تری مشکل بنا دیتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






