بس اتنی ہی خواہش تھی ۔ ۔ ۔
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaساحل کنارے ، ریت پر
چلتے دو قدوں کے نشان ہو
سورج کی ڈوبتی کرنیوں میں
دو جسم مگر
سائے میں ایک انسان ہو
لہریں پاوں کو آ کر چوم لے
اور ہواوں میں سرگوشیوں کی اتنہا ہو
چلتے چلتے رات ڈھل جائے
اور اوپر فلک پے چاند نکل آئے
اور تاروں بھرا آسمان ہو
سمندر میں لہریں
خوشی سے گھونج ُاٹھے
جب تیرے لبوں پے اظہار ہو
کچھ زلفیں چہرے پے آ کر الجھ جایئں
جب پیار سے سنوارتے
ُانہیں تیرے ہاتھ ہو
اور چاروں طرف اک بادل کی
نمی نمی برسات ہو
اور وقت وہی پے تھم جائے
جب چاندی کے ہاتھ میں چاند ہو
بس اتنی ہی خواہش تھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






