بلاؤ اُنہیں کہ آج رنگ پہ محفل بھی ہے
Poet: Johar Mumtaz By: johar mumtaz, lahoreبلاؤ اُنہیں کہ آج رنگ پہ محفل بھی ہے
جو میری زیست کا حاصل ہے،قاتل بھی ہے
قسمِ جاناں نے پہنا دی ہاتھوں میں چوڑیاں
ورنہ زورِ بازو بھی ہے ، جذبہِ دِل بھی ہے
دِل کے آنگن میں ڈیرے اُداسیوں کے ہیں
جبکہ بہار بھی، بارش بھی ہے، بادل بھی ہے
اُس کے اِن لفظوں سے جاں کی خلاصی ہوئی
یہ تو مجنوں ہے، دیوانا ہے، پاگل بھی ہے
آج تیرِ نیم کش تو دِل والے ہی سہیں گے
کہ زلف ہے بکھری ہوئی ، آنکھ میں کاجل بھی ہے
بہکاتا ہےجنوں پھر مجھے دشت کے لیے
ناؤ بھی ہےمیرے پاس، سامنے منزل بھی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






