....بهت غصیلا لهجه هے ....بهت انداز نرالا هے
Poet: ایچ ایم کاشف علی By: H M Kashif Ali, Lahoreبہت غصّیلا لہجہ ہی
بہت انداز نرالہ ہے
کہیں ہنسی بھی آتی ہے
کہیں آنسوؤں کو پالا ہے
پھولوں جیسے مزاج کو
آنسوؤں نے اچھالا ہے
چوٹی چوٹی امیدیں
بڑے بڑے خواب ہیں
اتنے سے ہی دل میں اس نے
سب کچھ ہی پالا ہے
دل میں بہت سی باتیں ہیں
جن سے منسلک ذاتیں ہیں
سب کچھ چاہتے ہوئے بھی اسکے
زبان پے لگا اک تالا ہے
کیسی خوشبو والی گردن
جس میں یہ اک مالا ہے
دکھ سہتے بھی کہنا اسکا
سب کچھ آعلی آعلی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






