بھلانا جو آساں ہوتا

Poet: طارق اقبال حاوی By: Tariq Iqbal Haavi, Lahore

ہم بھی اسکو بھلا دیتے، بھلانا جو آساں ہوتا
سبھی یادیں مٹا دیتے، مٹانا جو آساں ہوتا

محبتیں ہیں وقف ھیں میری، اب بھی اسکے لٸے ورنہ
نیا کوٸی عشق جما لیتے، جمانا جو آساں ہوتا

پکڑ ہے عشق کی ایسی، کہ دامن تار تار ہے
جھٹ سے دامن چھڑا لیتے، چھڑانا جو آساں ہوتا

انا کے ہم بھی قیدی تھے، بلا کے وہ بھی ضدی تھے
خفا وہ شخص منا لیتے، منانا جو آساں ہوتا

اکثر ہی پوچھتے ہیں لوگ، کیا ہے بیوفا کا نام
نام تیرا بتا دیتے، بتانا جو آساں ہوتا

دکھا محفل میں کل مجھکو، لگا پھر سے بھلا دل کو
گلے اسکو لگا لیتے، لگانا جو آساں ہوتا

ہیں سب تقدیر کی باتیں، نہیں بس میں میرے حاوی
ستارے ہم ملا لیتے، ملانا جو آساں ہوتا

Rate it:
Views: 2578
12 Feb, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL