۔۔۔بیٹھے ہیں ۔۔۔
Poet: جاوید صدیقی By: جاوید صدیقی, کراچیعشق و محبتوں کے بت بنائے بیٹھے ہیں
اپنی جیتی جاگتی زندگی کو بھلائے بیٹھے ہیں
اُن کی یادوں، خیالوں کو اپنائے بیٹھے ہیں
ورق پر لکیروں سے تصویر بنائے بیٹھے ہیں
ان کی چاہت میں اسقدر دیوانے بیٹھے ہیں
اپنی چاہت کو پہلوؤں میں چھپائے بیٹھے ہیں
اپنی زلفوں کو پھیلاکر جب وہ آکر بیٹھتے ہیں
اپنےحسن کے نور کو مجھ سے چھپائےبیٹھے ہیں
اے ریاض !وہ لمحات ہرگز بھلائے نہیں بھولتے
جو ان کے ساتھ گزرے وہ ساتھ لیئے بیٹھے ہیں
((نوٹ: شاعری میں اپنا نام ریاض استعمال کرتا ہوں ))
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






