تم نہ جانا چندا

Poet: عباد راشد By: عباد راشد, کراچی

 چاندنی راتوں کو جاگ کر کے
کھڑکی سے چاند کو تاک کر کے
کھو جاتے تھے تُجھ کو یاد کر کے
پھر سو جاتے تھے اک فریاد کر کے

خدا اک دن مجھے اُس سے مِلا دینا
جسے چاہا تھا خود کو برباد کر کے
جو بچھڑا تو یوں دل چاق کر کے
سارے عہد وفاؤں کو راکھ کر کے

خدا اس کی ہر خطا اس کو معاف ہے
بس ایک بار آ جائے وہ دہلیز پار کر کے
رہا وعدہ کہ میں خود کو مٹا دوں گا
اس کے قدموں میں خود کو خاک کر کے

میرے چاند میرے آنسوں پر گواہ ہو جا
سمندر بھر کر دریا بہا ہے اسے یاد کر کے
بھولے سے بھی کبھی اُس نے احوال نہ لیے
پر تم نہ جاناچندا تاریک راتیں ویران کر کے

Rate it:
Views: 665
14 Oct, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL