تیرے بغیر ہے جینا دشوار آج کل
Poet: عفان ساحل By: Affan Sahil, Lahore تیرے بغیر ہے جینا دشوار آج کل
جی تو لیں گے مگر دِل ہے بے قرار آج کل
جس کے لوٹ آنے کا کوئ امکان نہیں
کر رہا ہوں میں اس کا انتظار آج کل
درد سہہ کر ہی جینا پڑے گا
ملتی نہیں سانسیں ادھار آج کل
تم کان نہ دھرنا میری شکایتوں پر
کوئ بھی نہیں سنتا میری پکار آج کل
اب تمھارے روٹھ جانے کا غم نہیں
زندگی سے میں یوں ہی ہوں بیزار آج کل
یہ طوفان بھی جلد ہی تھم جاۓ گا
بہت تیز ہے وقت کی رفتار آج کل
تباہ و برباد یہ دنیا ہوگئ ہے ساحلؔ
قیامت کا ہے مجھے انتظار آج کل
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






