جیسے میرے سر پہ کوئی آسماں ہوتا نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاجیسے میرے سر پہ کوئی آسماں ہوتا نہیں
میرے دل کی دھڑکنوں میں وہ جواں ہوتا نہیں
میں وفا کی راہ میں تو بے سبب ہی لٹ گئی
یہ جفا کا درد تو مجھ سے بیاں ہوتا نہیں
یہ جفا کے سلسلے تو پھیلتے ہیں یک بیک
پیار کا رشتہ مگر کیوں بیکراں ہوتا نہیں
میں نے اپنے دل پہ اس کا نام دیکھو لکھ دیا
وہ تو میری زندگی کی داستاں ہوتا نہیں
کیسے اس کے نام میں نے زندگی کوکر دیا
جو کبھی بھی حال دل پہ مہرباں ہوتا نہیں
اس نگر کے لوگ سارے خود میں جل کے مر گئے
اور امیرِ شہر کے گھر تو دھواں ہوتا نہیں
لوگ ملنے آ رہے ہیں اجنبی کے بھیس میں
کوئی ہے اس میں مرا ، وشمہ گماں ہوتا نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






