جیے جاؤ زندگی بہار سی
Poet: By: Rubin Biswas, Karachi جیے جاؤ
زندگی بہار سی
ھولے ھولے پھولوں کا کھلنا
ستاروں سی شب بھری
پھولوں سے بیل لدی
چلی جب ھوا رقص دینکھے نگے
مھکتی ھے بے تاب ھو کے شاخ گلاب
رس گھول دیا ھلکی ھلکی پھوار جیسے
سر چھیڑ ا پھول میں مینہ کی خوشبو نے
پوچھو نہ عالم موتی سے جگمگ کرتے
اجالوں کے نیچے یہ سائے گھنیرے نظارا کرو
جھلملاتے رنگ کے دیے پلکوں پے رکھہ لو
حیرت آنگیز مت پوچھو دل کی باتیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






