حصے کے آسمان سے آگے نہ بڑھ سکے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiحصے کے آسمان سے آگے نہ بڑھ سکے
کچھ اپنی داستان سے آگے نہ بڑھ سکے
ہاں حاصلِ خلوص تھے کچھ لوگ اور ہم
خوابوں کے آستان سے آگے نہ بڑھ سکے
ملنے کو چاند آ گیا ہم کو زمین پر
ہم اپنے خاکدان سے آگے نہ بڑھ سکے
ممکن ہے شہرِ عشق میں زندہ ملیں کبھی
جو پیار کے نشان سے آگے نہ بڑھ سکے
کچھ لوگ ہیں جو غیر کی خوشبو کو ڈھنڈتے
اپنے ہی گلستان سے آگے نہ بڑھ سکے
محدود ہو کے رہ گئے الفاظ ِ زندگی
وشمہ مرے گمان سے آگے نہ بڑھ سکے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






