خمارَ عشق ہے ریگِ تپاں میں زندہ ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاخمارَ عشق ہے ریگِ تپاں میں زندہ ہوں
دیارِ عشق ہے لکھا جہاں میں زندہ ہوں
فریبِ یار نے چھوڑا کہاں ہے جینے کو
ہاں اپنی آنکھ میں بھر کر دھواں میں زندہ ہوں
کسی کے پیار کے کے ہاتھوں مری زمیں بھی گئ
لٹا کے پیار کا خود ہی جہاں میں زندہ ہوں
تمہاری آنکھ میں دریا نہیں قبول مجھے
نہ کر تو سامنے میرے فغاں میں زندہ ہوں
تمہارے پیار میں جینا کمال جینا ہے
تمہارے عشق میں وشمہ یہاں میں زندہ ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






