خموش صُبحیں، اُداس شامیں، تِرا پتہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quetta خموش صُبحیں، اُداس شامیں، تِرا پتہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں
بتاؤں اب کیا کہ یِہ فضائیں پلٹ کے کیا مُجھ سے پُوچھتی ھیں
اُداس چِڑییں جو دِن کو دانے کی کھوج میں تِھیں، ھیں لوٹ آئی
کہاں ھے شاخ شجر کہ جِس پر تھا گھونسلہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں
تُمہیں تو صحرا نوردیوں میں کمال ھے، کُچھ ھمیں بتاؤ
کمال کی ھیں جو ہستیاں آبلہ پا، مُجھ سے پُوچھتی ہیں
فقِیہِہ شہرِ بلا نے مُجھ کو تو مُدّتوں سے ھے قید رکھا
عدالتیں ھیں کہ اب کہیں جا مِری خطا مُجھ سے پُوچھتی ھیں
کوئی تعلّق، کوئی بھی ناتا نہیں رھا ھے تو نہ سہی اب
یہ پاک بازوں کی ٹولیاں کُچھ بھی کیوں بھلا مُجھ سے پُوچھتی ھیں
فصِیلِ شہرِ اماں کی یارو خُدا سے ھم خیر ما نگتے ھیں
بلائیں کیا کیا مِرے نگر کا ھی راستہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں
وفا کے شِیشے کی کِرچِیوں کے سمیٹنے کا کوئی سلِیقہ؟
بتاؤ حسرتؔ، بڑی ادا سے، پری ادا مُجھ سے پُوچھتی ھیں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






