خموش صُبحیں، اُداس شامیں، تِرا پتہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں

Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quetta

 خموش صُبحیں، اُداس شامیں، تِرا پتہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں
بتاؤں  اب کیا کہ یِہ فضائیں پلٹ کے کیا مُجھ سے پُوچھتی ھیں

اُداس چِڑییں جو دِن کو دانے کی کھوج میں تِھیں، ھیں لوٹ آئی
کہاں ھے شاخ شجر کہ جِس پر تھا گھونسلہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں

تُمہیں تو صحرا نوردیوں میں کمال ھے، کُچھ ھمیں بتاؤ
کمال کی ھیں جو ہستیاں آبلہ پا، مُجھ سے پُوچھتی ہیں

فقِیہِہ شہرِ بلا نے مُجھ کو تو مُدّتوں سے ھے قید رکھا
عدالتیں ھیں کہ اب کہیں جا مِری خطا مُجھ سے پُوچھتی ھیں

کوئی تعلّق، کوئی بھی ناتا نہیں رھا ھے تو نہ سہی اب
یہ پاک بازوں کی ٹولیاں کُچھ بھی کیوں بھلا مُجھ سے پُوچھتی ھیں

فصِیلِ شہرِ اماں کی یارو خُدا سے ھم خیر ما نگتے ھیں
بلائیں کیا کیا مِرے نگر کا ھی راستہ مُجھ سے پُوچھتی ھیں

وفا کے شِیشے کی کِرچِیوں کے سمیٹنے کا کوئی سلِیقہ؟
بتاؤ حسرتؔ، بڑی ادا سے، پری ادا مُجھ سے پُوچھتی ھیں

Rate it:
Views: 444
13 Sep, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL