-خواب نگر-
Poet: افراءعروج By: Ifra Arooj, Faisalabadخواب سرہانے پڑے رہتے ہیں
اک اُمید ہے وہ کبھی مُجھ کو جگانے آئے
مجھ کو ڈھونڈے میرے پیار کی کہانی بن کر
مجھ کو اک گھونٹ محبت کا پلانے آئے
مجھ میں رہ جائے وہ میرا بن کر یا
اسے کہہ دو مجھے اپنا بنانے آئے
جب میں تنہا ہوں مجھے تھامے آ کر
جب میں رُسوا ہوں تو وہ گُنگُنانا چاہے
جب میں چپ ہوں تو وہ بادل سا گرجے
جب میں ہنس دوں اُس پہ تبسُم چھائے
جب میں بن جاٶں اک مورتی کی طرح
وہ چپ چاپ مجھ سے لپٹنا چاہے
میری دعاٶں کو وہ جانے نہ دے ضائع
اسے کہہ دے وہ مجھ کو بچانے آئے
میری ڈھیروں اداسی کا صلہ مجھ کو ملے
مجھ کو اِک پل پیار سے بلانے آئے
وہ میرے لَرزتے لَب دیکھ لے آ کر
یا اپنی آواز مجھ کو سُنانے آئے
مجھ پہ وار کرے نظروں سے
یا مجھے بوسہ تحفے میں دینے آئے
میری مٹی اڑا جائے ہوا بن کر
اگر میں گِر جاٶں تو مُجھ کواُٹھانے آئے
اب میں چاہتی ہوں کہ روٹھ جاٶں
شرط یہ ہے کہ وہ مجھ کو منانے آئے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






