دل میں کسی کی یاد بساتے ہوئے چلو
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, India دل میں کسی کی یاد بساتے ہوئے چلو
پُرلطف زندگی کو بناتے ہوئے چلو
دیکھو کسی کے آئینہ کو ٹھیس نہ لگے
اس کی تو قدر دل میں بڑھاتے ہوئے چلو
باتیں تو خوب درد کی ہوتی ہیں دوستوں
اب ربط اہلِ دل سے بڑھاتے ہوئے چلو
رہنے نہ پائے کوئی جہالت میں شادو مست
اب شمعِ علم کی ہی جلاتے ہوئے چلو
گفتار ہی نہیں ہے مداوائے زندگی
کردار ہی کو اعلٰی بناتے ہوئے چلو
شکوہ زمانے کا ہو کیوں کر زباں سے اب
غفلت سے اب تو بازہی آتے ہوئے چلو
آسانیاں ملیں گی ہی ہر تنگیوں کے بعد
یہ بات ہر کسی کو بتاتے ہوئے چلو
احساسِ کمتری تو ہے اک روگ دوستوں
اس مرض کو دلوں سے مٹاتے ہوئے چلو
دیکھو کسی کو راہ سے بھٹکا ہوا کہیں
تو راہ اس کو سیدھی دکھاتے ہوئے چلو
ہر کام میں ضروری تو اخلاص شرط ہے
خالص ہی نیّتوں کو بناتے ہوئے چلو
باتیں یہ اثر کی تو ہیں بکھرے ہوئے موتی
ان سے ہی زندگی کو سجاتے ہوئے چلو
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






