دل کی تختی پہ محبت سے، شکایت کرنا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادل کی تختی پہ محبت سے، شکایت کرنا
میرے ہونٹوں پہ سجی ہے جو شرارت کرنا
جب کبھی یاد ستائے تو ہوا کے پر ،پر
میں نے کی پیار میں اب تک جو عبادت کرنا
تُو نے جو آج بنایا ہے یہاں تاج محل
اس کی دیوار میں چن دی ہے محبت کرنا
یہ تو دنیا ہے مری جان سرابوں جیسی
حُسن اور عشق کی کیسی ہے حکایت کرنا
تیری ہر بات پہ لبیک نہیں کہہ سکتی
پھر بھی جو دل میں چھپی ہے وہ شرافت کرنا
کیا یہ تہذیب کا نوحہ ہے میاں اردو ادب
اپنے جذبوں کی ذرا کھل کے وضاحت کرنا
سب ہی کہتے ہیں کہ ہے پیار کہانی وشمہ
اُس کو جو دی ہے زمانے نے اذیت کرنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






