دو لاین شاعری

Poet: محمد مسعود By: محمد مسعود , نوٹنگھم یو کے

(121)

آنچل پھر آشکوں سے بھگونے والا ہوں
جی بھر کے تیری یاد میں رونے والا ہوں

(122)

رمجھم رمجھم برسا رہی ہے
یاد تمہاری قطرہ قطرہ

(123)

کوئی اور ہے کام سونپ دو مجھے اِب تم
یہ کیا تجھے سوچنا اور سوچتے ہی رَہنا

(124)

اُس نے ہنسی ہنسی میں محبت کی بات کی
میں نے مسعود اس کو مکرنے نہیں دیا

(125)

اتنا بے حس کے پگلتا ہی نہ تھا باتوں سے
آدمی تھا کہ تراشا ہوا پھتر دیکھا

(126)

محبت ہو چُکی پوُری
چلو اِب زخم گِِِنتے ہیں

(127)

جب کبھی خود کو یہ سمجھاوں کے تو میرا نہیں
مجھ میں کوئی چیخ اُٹھتا ہے نہیں ایسا نہیں

(128)

موقع جیسے بھی ملا وہ پیتا چلا گیا
شاہد بہت مٹھاس ہمھارے آہوں میں تھی

(129)

ویسے تو نہیں ملتے چلو کر لیں بہانہ
سینے سے لگ کے میرے کہو عید مبارک

(130)

عید کی چوڑیاں لے آو گی جب تم
نہ ہو کوئی پہنانے والا تو مجھے یاد کرنا

(131)

دستور ہے دنیا کا مگر یہ تو بتاوُ
ہم کس سے ملیں کس سے کہیں عید مبارک

(132)

عید کا چاند کو دیکھو تو روک لو آنسو
جو ہو سکے تو محبت کا احترم کرو

(132)

عید آئی ہے سُلگتی ہوئی یادیں لے کر
آج پھر اپنی اُداسی پہ ترس آیا ہے

------
 

Rate it:
Views: 1904
29 Jul, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL