دیا جیم طرحی مشاعرے کے لئے میری مکمل کاوش
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائشیااب سمندر کی طرح ندیا بھی پیاسا رکھے
ہو بھی سکتا ہے کہ وہ مجھ کو اکیلا رکھے
زندگی میں نے عذابوں کی طرح کاٹی ہے
تجھ کو یہ زیست محبت کا مسیحا رکھے
خود کو کہتا ہے محبت کا جو بازی گر
وہ جہاں بھی رکھے میرا ہی تماشا رکھے
میں بھی چاہوں گی محبت کا سمندر بن کر
میرے ہونٹوں پہ اگر پیار کا دریا رکھے
جس محبت نے مجھے مان دیا ہے جگ میں
اس محبت کو سدا شان سے اللہ رکھے
میں تو ہو جاؤں گی تحلیل اسی روح میں پر
وہ بھی بانہوں میں محبت سے زیادہ رکھے
چھٹ بھی سکتے ہیں جفاؤں کے یہ وحشی منظر
وہ دعاؤں کا اگر ہاتھ میں کاسہ رکھے
وہ اگر خوش ہے مجھے دیکھ کے غم کا بادل
اس کی حسرت کو خدا ایسے کا ویسا رکھے
مجھ سے اب جان چھڑاتی ہو تو سن لو وشمہ
"جا خدا میری طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے"
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






