دیکھنے کو ملا

Poet: Hina By: Hina Nisar, Multan

تیرے وصل کے بعد تیرا ھجر دیکھنے کو ملا
نہ جانے ھم کو کیا کیا دیکھنے کو ملا

اپنے ھی آنسولپٹ کر روےھم سے
اپنے ھی دل کا جنازہ دیکھنے کو ملا

اپنے ھی ھونٹوں نے چپ سادھ لی ھم سے
اپنے ھی اپنوں کا دغا دیکھنے کو ملا

لگی تھی ایسی عادت تجھ سے بات کرنےکی
اپنی ھی باتوں کا تماشادیکھنے کو ملا

تو گیا تو ھجر کے یارانے کھلے
کچھ آنسووں کچھ غموں کاحلقہ دیکھنے کو ملا

مل کر بیٹھ گےء سب مجھ سے سر جوڑ کے ایسے
گویا تجھ سے منسوب شرارتومنظر دیکھنے کو ملا

پھر تو سب درد بھی مجھے چھوڑ کر چلے گےء تیرے ساتھ
مجھے اپنا آپ ھی درد سا دیکھنے کو ملا

کیا ایسے ھی ھوتا ھے ھجر کا زمانہ یارو۔۔۔؟
سب مجھ سے جدا؛ میں سب سے جدا دیکھنے کو ملا۔۔۔
 

Rate it:
Views: 698
05 Feb, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL