روز اک موڑ یہ کیوں لاتا فسانے میرے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاروز اک موڑ یہ کیوں لاتا فسانے میرے
اس گزر گاہ پہ دیکھے ہے خزانے میرے
جانے کیسی تھی مرے ہونٹ پہ رکھی ہوئی پیاس
رو پڑا ہاتھ اُٹھائے پہ ہی جانے میرے
آج اُترا وہ مری بات کی گہرائی میں
کچھ سہولت سے دیا ہے جو دعانے میرے
تُو نے آندھی کو کھُلی چھوٹ جو دے رکھی تھی
کب تلک خیر سے رکھتا وہ سرہانے میرے
کوئی اندازہ لگائے مری مجبوری کا
تُجھ پہ کرنا پڑا ہے بھروسہ جو جانے میرے
تُجھ کو دعویٰ تھا ترے فن میں تو یکتائی کا
کوزہ گر چاک سے اُترا میں ہی پانے میرے
اس قدر کہہ تو دیا اُس نےچلی جا اے وشمہ
اس بہانے سے ہوا مجھ سےزمانے میرے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






