سورج کے سامنے سبھی زرتاب خواہشیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاسورج کے سامنے سبھی زرتاب خواہشیں
جلنے لگی ہیں آنکھ میں برفاب خواہشیں
اپنی شکستگی کا یہ غم ہے میں کیا کروں
ہیں خواہشوں کے دیس میں بیتاب خواہشیں
اپنی تو ان کا ساتھ نبھاتے گزر گئی
سورج ڈھلے تو کرتا ہے مہتاب خواہشیں
تُو عشق ہے تُو دل کے جزیرے میں قید رہ
ئیں گے لے کے در پہ بھی احباب خواہشیں
کچھ ان کے خوابِ مرگ میں مسند نشین ہیں
کچھ میرے ساتھ ساتھ ہیں نایاب خواہشیں
وشمہ جی رنگ و روپ کی دنیا بدل گئی
سب ہو گئی ہیں عشق میں غرقاب خواہشیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






