صرف ہم دونوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL , Gujranwalaاَنا پرست تھے تمام شہر والے
اور مجبور ہوئے صرف ہم دونوں
خفا ہو کے وہ تو مل گئے
اور دور ہوئے صرف ہم دونوں
ترے اپنوں نے بھی وار کیے
میرے اپنوں نے بھی وار کیے
خوشحال رہے یہ اپنے اپنے
اور چُوڑ ہوئے صرف ہم دونوں
ضد کے غلام تھے دونوں گھرانے
ملنے نہ دیا دل والوں کو
نفرت کے چراغ جلاتے ہی گئے
اور بے نُور ہوئے صرف ہم دونوں
زندگی کے سمندروں میں دیکھو
نفرت کے شناور پاڑ گئے
سارے ہی سفینے عبور ہوئے
اور نا عبور ہوئے صرف ہم دونوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






