غبارِ راہ میں اب کوئی بھی تو خواب نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاغبارِ راہ میں اب کوئی بھی تو خواب نہیں
اے میرے دوست ترا کوئی بھی جواب نہیں
مجھے امید کہ مہکے گا میرا پھر آنگن
تمہاری یاد کالیکن کوئی گلاب نہیں
عجیب بات ہے تم آج پھر نہ پڑھ سکے
مری وفا کا کوئی دوسرا تو باب نہیں
تری گلی میں نہ جاؤں گی کون کہتا ہے
تری گلی میں وفا کاکوئی حساب نہیں
کوئی بتائے کہ سپنے وہ کیسے چور ہوئے
درِ حیات میں اترا اگر عذاب نہیں
غریبِ شہر تو گمنام مر گیا وشمہ
امیرِ شہر کا مرتا تو کوئی خواب نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






