غم فراق
Poet: معین فخر معین By: معین فخر معین, کراچی بھلا کیسے چھپاتے ہم جہاں سے
غم ہجراں ہہیں چہرے پہ عیاں سے
اب کہاں مہرباں تیرے ہجر میں
وہ لمحے جو کبھی تھے مہرباں سے
ہوئے یاد رفتہ کے دیپ روشن
جو گزرے ہم ترے در آستاں سے
نگاہوں نے کیے افشا راز دل
گلہ پہر کیسا اپنے راز داں سے
رنگ سرور نہ ہو تا زندگی میں
جو رہتے آپ یوں ہی بدگماں سے
ہو جائے آرزو ئے بہار پوری
کبھی گزرو تو میرے گلستاں سے
دشمن جاں و ہی ٹہرے ہمارے
تہے عز یز جو ہمیں سارے جہاں سے
محبت اپنی تابندہ رھے یوں
ہمیں دیکھیں ستارے آسماں سے
معین دل ھے وہ نصاب محبت
گزرتا ھے روز اک امتحاں سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







