فریب نظر تابندگیٴحسن کو اور بڑھا
Poet: Mubeen Nisar By: Mubeen Nisar, Islamabadفریب نظر تابندگیٴحسن کو اور بڑھا
گرد زمانہ چہرے سے اڑ جا
وقت کی راھگزر کے آثار ھیں رخ پر
اے وقت تو کہیں رستہ بدل جا
شبنم سے دھل کے پھول نکھرے جیسے
اے حسین خواب تو بھی نکھر جا
چاندنی میں چمکتا ہے سنگ مرمر کا تاج
تو ممتاز کی طرح دبے پاوٴں چلی آ
خزاں سی اداسی ہے چاروں طرف
تو رنگینی بہار بن کے چلی آ
میری نظریں تراشیں پتھر کو اسطرح
تو مر مر کی سلوں سے نکل کر چلی آ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






