فقط محبت کرے نہ مجھ سے محض پیار بھی دے
Poet: Asif shaaki By: Asif Shaaki, Karachiوہ دل کی تڑ پ کے ساتھ ساتھ دل بے قرار بھی دے
فقط محبت کرے نہ مجھ سے محض پیار بھی دے
صرف چمن،خوشبو،معطر ہوا و فضا گل و غنچہ
بہار کی علامت سمیت دل کا موسم خوشگوار بھی دے
دل گھبراہٹ کا ہے شکار کہ اس سے فراق نہ ہو جائیے
روز ایسے مرنے سے بہتر ہے کہ وہ مجھے مار ہی دے
تیری محبت بوجھ ہے قرض ہے احسان ہے یا ایثار
جو کچھ بھی ہی وللہ اسے میرے دل سے اتار بھی دے
اس سے فقط اتنا گِلہ کہ مجھے بڑی دیر سے ہے ملا شاکی
شاید کوئی دیوانہ خوشی یا خوف ہجر میں اپنی زندگی ہار بھی دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






