لکھتی اگر تو کیا لکھتی میں ؟
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaتو کیا لکھتی میں ؟
یوں تو ہیں ہزاروں لفظ
مگر تجھے جدا کر کےلکھتی اگر
تو کیا لکھتی میں ؟
تیرا میری زندگی میں آنا
یا پھر میری زندگی
یوں ہی چلے جانا لکھتی اگر
تو کیا لکھتی میں ؟
تیرے پیار کے چند بول
یا پھر تلخی بھرا لہجہ لکھتی اگر
تو کیا لکھتی میں ؟
تیرا بناء اب کوئی لفظ
نہیں سجتا کوئی شعر
نہیں بنتاء تو پھر لکھتی اگر
تو کیا لکھتی میں ؟
پوچھتا ہے میرا دل بار بار
کہ آخر کیوں کیا تم نے ایسا
دل کو جواب لکھتی اگر
تو کیا لکھتی میں ؟
باغوں میں پھول بھی ہیں
کھلتے رنگ بھی مگر
اپنا حال لکھتی اگر
تو کیا لکھتی میں ؟
میرا ہی لکھا ہر لفظ
مجھے اب تکلیف دیتا ہیں
میں اس درد کی دوا
کے لیے لکھتی اگر
تو کیا لکھتی میں ؟
تقدیر سے یا پھر تجھ سے
گلہ کرتی ، تو شکایت
بھرے نامے میں لکھتی اگر
تو کیا لکھتی میں ؟
دل کہتا ہیں کہ آ جاؤں
اب تو کہ کہیں میری راہیں
کوئی نیاء ُرخ نا لیں لے
کہ جہاں سے میں مڑ نا سکوں
آ جاؤں ورنہ یہ دل
مر جائے گا مٹ جائے گا
تمہیں اس دل کی آواز لکھتی اگر
تو کیا لکھتی میں ؟
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






