لہو آنکھوں سے ٹپکایا ہے میں نے عمر بھر وشمہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاستم کرتے ہو میرے دوست بن کے مہرباں مجھ پر
میں چپ ہوں گر چہ نیت سب تماری ہے عیاں مجھ پر
لبوں رک گئی ہیں آکے باتیں ساری دل والی
بیاں تجھ سے کروں میں اس قدر آساں کہاں مجھ پر
تقاضا ہے تمارا گنگناؤں مسکراؤں میں
کھلیں کیسے لبوں پہ پھول چھائی ہے خزاں مجھ پر
ادب کرتی ہوں پھر بھی کم نہیں ہے اس کی گستاخی
لگاتا ہے بڑی اب تہمتیں وہ بدزباں مجھ پر
ستم اپنوں نے ہی ڈھائے ہمیشہ کیا کہوں آخر
ستم اب یہ نیا ٹوتا نہیں ہے باغباں مجھ پر
لہو آنکھوں سے ٹپکایا ہے میں نے عمر بھر وشمہ
رہی ہے زندگی میری بڑی نا مہرباں مجھ پر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






