مجھے وہ لاکھ تڑپاۓ مگر اَس شخص کی خاطر
Poet: mohammed masood By: mohammed masood , meadows nottingham ukمجھے وہ لاکھ تڑپاۓ
مگر اَس شخص کی خاطر
میرے دل کے اندھیروں میں
دعاۂیں رقص کرتی ہیں
اَسے کہنا کہ لوٹ آۓ
سگلتی شام سے پہلے
کسی کی خشک آنکھوں میں
صداۂیں رقص کرتی ہیں
خدا جانے کیسی خوشی ہے
اَس کی یادوں میں مسعود
میں اَس کا ذکر چھیڑوں تو
ہوائیں رقص کرتی ہیں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






