محبت اک کھلونا تھا

Poet: عمیر اکبر تابش By: umair Akbar tabish , Rawalpindi

 محبت اک کھلونا تھا جسے وہ توڑ دیتی تھی
گلے لگ کے وہ روتی تھی ، پھر تنہا چھوڑ دیتی تھی

محبت تھی مجھے اس سے اسے بھی تو تھی شاید
پکڑ کر ہاتھ میرا وہ سر راہ چھوڑ دیتی تھی

بچپن سے وہ میری تھی فقط میرا یقین یہ تھا
میری ہر بات کو وہ بس ہنسی سے ٹال دیتی تھی

اسے میں اچھا لگتا تھا یا میری سوچ تھی ایسی
فقط تم دوست ہو میرے یہ اکثر بول دیتی تھی

کھلونا تھا یقینن میں اس کے ہاتھ کا ایسا
ہتھیلی میں ہی جس کو وہ مثل کر توڑ دیتی تھی

گرتے ہی نہیں تھے پھر میرے جذبات کے ٹکڑے
صندل کر کے اشکوں کو وہ میرے رول دیتی تھی

میری آنکھوں میں لکھی تھی محبت کی کہانی جو
ادھوری پڑھ کر اکثروہ وہیں پھر چھوڑ دیتی تھی

Rate it:
Views: 614
10 Dec, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL