موت سے ملنا سکیھ لیا ہے

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

دکھوں میں مسکرانا سکیھ لیا ہے
اپنے غموں کو چھپانا سکیھ لیا ہے

محفلوں میں دل جلانا سکیھ لیا ہے
تنہایوں کو گلے لگانا سکیھ لیا ہے

اپنے اشکوں کو آنکھوں سے چھپا کر
اپنے لفظوں میں بہانا سکیھ لیا ہے

دیکھوں ! میرے لفظ رو رہے ہیں میں نے
اپنے صحفوں کو سوکھانا سکیھ لیا ہے

کون ہوں میں ؟ یا کون تھی میں ؟
میں نے خود کو بھلانا سکیھ لیا ہے

کیا تھی باتیں میری ؟ یا ، کیا تھی سوچیں میری ؟
میں نے اپنی ہستی کو بھلانا سکیھ لیا ہے

خود ہی تو دیپ جلایے تھے میں نے
سنو ! میں نے ُانہیں بھجانا سکیھ لیا ہے

وہ جو پاگل پن تھا مجھ میں تیرے لیے
آ جاؤ تم کہ میں نے ُاسے دبانا سکیھ لیا ہے

تیری راہیں جو میری ہمسفر بن گئی تھی
سنو ! میں نے راہیں بدلنا سکیھ لیا ہے

چاہے مر جاؤں ، یا پھر زندہ راہوں لکی
تم نا گھبراوں کہ میں موت سے ملنا سکیھ لیا ہے

Rate it:
Views: 573
19 Sep, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL