میرا نام جب بھی لکھنا بصد احترام لکھنا
Poet: Asad By: Asad, mpkپیغام الفت ھے آج کسی کے نام لکھنا
اپنا تو کام ھے یارو صبح و شام لکھنا
کسی کی زلفوں کا جادو ہم سے پوچھو
کہ ہم کو خوب آتا ھے حشر تمام لکھنا
ملنے کی حسرت ھے جاگی تہیں دل اپنے
بس ایک بھول گیا ہوں میں وہ مقام لکھنا
کہا کسی نے ھے پرسوں مجھے کان میں
کہ میرا نام جب بھی لکھنا بصد احترام لکھنا
ہمیں تو اب بھی گمان ھے کسی کی آمد پر
بہر حال وقت مقرر ھے بس اسکا مقام لکھنا
بخش دے کوئی اگر اسد کوئی خطا ہو جائے
کہ مجھے بھولے گر نہ آئے کسی کا نام لکھنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






