"میری صابرہ ماں"
Poet: saba hassan By: saba hassan, Lahoreوہ لمحے کتنے اچھے تھے
جب دنیا سے بے نیازھم
ھر پل خوش رھتے تھے
مجھ کو یاد نہیں پڑتا کہ
اپنی ماں کومیں نے کبھی افسردہ سا دیکھا ھو
ماتھے پر کوئی اک شکن
باتوں میں کوئی رنج و الم
لیکن
ممکن ھی نہیں کہ وہ اس دنیا میں رھتے ھوئے
دکھ کی رات میں نہ ڈوبی ھو
ممکن ھی نہیں اُس کو بھی کبھی کسی ذات نے توڑا نہ ھو
رخسار پہ آنسو سے نگیں اُس کے کبھی سجے نہ ھوں
کیسا وقت تھ وہ لاعلمی ک
جب میری ماں مجھ سے دکھوں کو چھپاتی تھی
اور میں اس خوشفہم دنیا میں دکھ پڑھنے سے بالا تھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






