میری محفلوں میں کمی تیری
Poet: پنچھی By: Abdulwadood, rabwahکیوں درد دل ہے جھلک رہا
کیوں ازیتیں ہیں بھری بھری
میری زندگی ہے بُجھی بُجھی
میری محفلوں میں کمی تیری
میری محفلوں میں کمی تیری
میرے دل پہ ۔۔۔۔۔تیرے ہجر کا
یہ جو رکس ہے میرے سائباں
اسی سرمائے سے تو ہے میری
اب زندگی یہ بھری بھری
میری محفلوں میں کمی تیری
میری محفلوں میں کمی تیری
میرے احترامِ جنون کا
ہے حال یہ میرے مہرباں
تیرےنام کو ہے چھپا لیا
پر زات سے تو جھلک رہی
میری محفلوں میں کمی تیری
ہے تشنہ میرے دل کی زمیں
اور آنکھوں میں ہے نمی تیری
میری محفلوں میں کمی تیری
میری محفلوں میں کمی تیری
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






