میری پیچان میں کوئی نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاچشمِ حیران میں کوئی بھی نہیں
میری پیچان میں کوئی نہیں
وقت میں نے فضول خرچ کیا
خوبی مہمان میں کوئی بھی نہیں
میں اکیلی اسیر ہوں کب کی
اور زندان میں کوئی بھی نہیں
سارے میری طرح ہیں زیرِ عتاب
شوکت و شان میں کوئی نہیں
خالی کمرہ پڑا ہے آنکھوں کا
اس شبستان میں کوئی بھی نہیں
ہر طرف ہے سکوت کا عالم
اب صدا کان میں کوئی بھی نہیں
ایک یوسف تھا بک گیا کب سے
وشمہ کنعان کوئی بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






