میرے جانے کے بعد
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Hustonرہےمنتظرجس کے وہ آۓ نہ کبھی عمرحیات میں
خراماں خراماں وہ چلے آۓ میرے جانے کے بعد
پردہ پوشی کا عالم نقاب اٹھتا نہ تھا چہرہ دکھتا نہ تھا
ہوے یوں بے پردہ وہ میرے یہاں سے جانے کے بعد
آیا نہ جس کو کبھی خیا ل میرا میری حیا ت میں
ہوی انکو مجھ سے محبت اسقدر میرے جانے کےبعد
عداوت کہوں یا نزاکت کہ بھولے سے نہ دیۓ خار کبھی
زہے نصیب وہ لاۓ پھولوں کے ہار میرے جانے کے بعد
خلش نہ رہی بچھڑنےکی کچھ اس دھوم سے اٹھا جنازہ میرا
تڑپ تڑپ کر رو د یۓ وہ جہاں سے میرے جانے کےبعد
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






