میں ہر اک سے لفظوں کے تماچے کہتا رہا

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

ُاسے پانے نکلا تو
دوست پے دوست بناتا رہا

شاید ! مل ہی جائے کوئی اپنا
اسی آس پے سب کو حال بتاتا رہا

وہ تو میرے سامنے ہی تھی
جسیے ڈھونڈتے میں اپنا آپ گنواتا رہا

بس ُاسے چاہا تھا یہی تھی خطاء میری
تبی تو میں ہر اک سے لفظوں کے تماچے کہتا رہا

بڑا یقین تھا مجھے ُاس شخص پے
جس کی خاطر میں تنہایوں کو منہ لگاتا رہا

سوچتا ہوں کیا میری سب
وفایئں ُاس کے لیے کچھ نا تھی

جو وہ بھی لوگوں کی طرح
مجھے ہی چھوٹا ٹھراتا رہا

میری آنکھیں جو کبھی بھیگ جاتی تھی
وہ تو میرے آنسووں کو بھی پانی بتاتا رہا

مجھے محبت میں تڑپتا
دیکھنے کا بہت شوق تھا ُاسے

جب تڑپنے لگا تو وہ شخص
مجھ سے ہی دامن چھڑاتا رہا

Rate it:
Views: 443
22 Dec, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL