نظر میں پھول کھلتے ہیں
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, Milford Haven WALES UK چراغاں دل میں ہوتا ہے نظر میں پھول کھلتے ہیں
خیالِ وصل سے دل کے نگر میں پھول کھلتے ہیں
ستاروں نے کہا شب بھر یوں تنہا دیکھ کر ہم کو
شبِ ہجراں یوں گزرے تُو سحر میں پھول کھلتے ہیں
مہک تیری وفاؤں کی ہمارے ساتھ چلتی ہے
اگر تم ہمسفر ہو تو نظر میں پھول کھلتے ہیں
غمِ دوراں سے گھبرا کے تیرے پہلو میں آ بیٹھے
تیری سانسوں کی خوشبو سے نظر میں پھول کھلتے ہیں
تمہارے مسکرانے سے بدل جاتے ہیں منظر بھی
ہوائیں جھومتی ہیں ہر ڈگر میں پھول کھلتے ہیں
اُٹھائے ہاتھ تو ابرِ بہاراں جھوم کر آیا
ہماری ہی دعاؤں کے اثر میں پھول کھلتے ہیں
جلا کے شمع ہم نے ظلمتوں کو یہ بتایا ہے
لہو دل کا جلایئں تو دہر میں پھول کھلتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






