نظر کے سامنے تھی اب خُدا جانے کہاں رکھ دی
Poet: " مظہرؔ اقبال گوندل " By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachi
نظر کے سامنے تھی اب خُدا جانے کہاں رکھ دی
محبت کی کتاب اُس نے اچانک کیوں نہاں رکھ دی
میں جس کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں اپنی بےکسی میں اب
وہی امید کی صورت نظر سے ناگہاں رکھ دی
زباں سے پیار کے دعوے، دلوں میں کینہ پروری
وفا کے باب کو لوگوں نے کیسا بے زباں رکھ دی
یہاں ہر چہرہ آئینہ لگے لیکن حقیقت میں
عداوت کو نقابوں کے پسِ پردہ نہاں رکھ دی
خدا کا نام لے کر بھی ستم جاری رکھا لوگوں نے
عبادت کے بہانے ظلم کو رسمِ جہاں رکھ دی
میں ٹوٹا تو غموں کے بوجھ سے لیکن یہ حیرانی
کہ اُس نے بے نیازی کو ہی قسمت کی زباں رکھ دی
سفر کے راستوں پر روشنی باقی نہ تھی مظہرؔ
چراغِ دل کو کس نے آندھیوں میں مہرباں رکھ دی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






