نگاہ میں جو معتبر نہ ہوا وہ دل کو بھی عزیز نہ ہوا
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Huston نگاہ میں جو معتبر نہ ہوا وہ دل کو بھی عزیز نہ ہوا
مگر گزر جاتی ہے بنا محبت کے بھی زندگی کبھی
وگر نہ ڈھونڈے سے ملے نہ مانگے سے ملے محبت
ہو جاۓ تو ہوچاۓ ہے اک نظر میں محبت کبھی
جذ بہ احساس نگاہوں میں لفظوں میں چھپی محبت
مگر ہوتی نہیں نا قدر شناس سے اظہار محبت کبھی
کرے نہ کرے خواہ کوئ اعتراف مجبت مگر
حوشبو مانند ہے بکھر جاتی اطراف میں محبت کبھی
سو کیجیۓ قدر ایسی محبت کی بھی کبھی
جو ملے یوں کسی کو نصیب سے محبت کبھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






