نہیں صبر ہی کی کمی تجھ میں وشمہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتصور جہاں کاخیال اوج پر ہے
عقیدہ سراپا جمال اوج پر ہے
سبھی کو محبت میں ہوتے ہیں صدمے
ہوا دل کا ہی یہ جو حال اوج پر ہے
یوں تیرِ نظر آ لگا پار دل کے
کہ سر ہو گیا اب سُفال اوج پر ہے
پڑی ہے مروت کی میت کفن میں
دہن ہو گیا ہے یہ حال اوج پر ہے
سنی ہے خبر ان کے آنے کی ہم نے
چمن ہو گیا ہے اب جمال اوج پر ہے
غلا مانہ سوچوں کے گہرے اثر سے
ذہن ہو گیا اس کا جلال اوج پر ہے
چھپائیں گے ہاتھوں سے منہ کو گناہ بھی
کھلے گا حشر میں کمال اوج پر ہے
نہیں ہے کوئی بات اپنے میں ایسی
ہوا نہ کہے گی وبال اوج پر ہے
نہیں صبر ہی کی کمی تجھ میں وشمہ
مری جان کچھ یہ ملال اوج پر ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






