چاہت
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryمیری چاہتوں کا ہے جو حساب دینا
تو ظلمی اجر میں یہ زیست نام دینا
ڈر تجھے دنیا کا ہے اس قدر
پر کبھی تو نام میرا لب بام لینا
میں تیرے عشق میں رانجھا رانجھا چلائی
ظالم کبھی تو،......تو بھی" ہیر "کہہ کر صدا دینا
لوگ کہتے رہے یہ عشق خانہ خراب ہے
پر میرے لئے تو یہی آب حیات ہے
لوگ کہتے ہیں کہ ہتھیلیاں میری لال ہیں
وہ کیا جانے یہ رنگ حنا نہیں لہو ناشاد ہے
گزری ہے عمر تیرے آستانہ پر
تو اب بھی کہے اس میں کیا کمال ہے؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






