چاہت کے گلستان میں اک شعر کہا تھا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاچاہت کے گلستان میں اک شعر کہا تھا
جب میں نے تری شان میں اک شعر کہا تھا
اتری ہیں خیالوں میں ترے پیار کی پریاں
یادوں کے پرستان میں اک شعرکہا تھا
اب آئینہ خانے میں ہیں تنہائی کے پہرے
شاہد کبھی زندان میں اک شعر کہا تھا
اس دن سے کبھی بھیگے نہیں نین کنارے
ہاں میں نے بھی وجدان میں اک شعر کہا تھا
کیا ڈھونڈنے نکلے ہو مرے جسم کی شب میں
بس صبح کی مسکان میں اک شعر کہا تھا
اب ترے سوا یاد نہیں پیار کے وعدے
وشمہ تری پہچان میں ایک شعر کہا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






