چلے گئے ہو تو اب لوٹ کر نہ آنا تم

Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachi

چلے گئے ہو تو اب لوٹ کر نہ آنا تم،
یہ زخم دل کے ہیں، ہر بار مت ہرا کرنا۔

تمہاری یاد میں ہم نے کئی برس گنوائے،
اب اس خزاں پہ کبھی بھی گلہ نہ کیا کرنا۔

جو خواب ٹوٹ گئے، ان کا کوئی ماتم نہیں،
بس نیند چھین کے تم، دوسرا خواب نہ کرنا۔

تمہارے بعد جو خاموشیوں نے ساتھ دیا،
اب ان سے بڑھ کے کوئی گفتگو نہ کرنا۔

ہم ایک بار ہی روئے تھے، عمر بھر کے لیے،
یہ اشک آنکھوں میں بے کار مت بہا کرنا۔

بچھڑ گئے تو مکمل بچھڑ ہی جاؤ نا،
ادھوری بات کو افسانہ مت بنا کرنا۔

Rate it:
Views: 182
01 Feb, 2026
More Sad Poetry