چہرا نہیں ملتا  شناسا اب کوئی

Poet: Naveed Ahmed Shakir By: Naveed Shakir, Faisalabad

چہرا نہیں ملتا  شناسا اب کوئی
اچھا نہیں لگتا تقاضا اب کوئی

دل تو وہی ہے لوگ اُن جیسے کہاں
ممکن نہیں پھر سے تماشا اب کوئی

شاید کبھی وہ لوٹ آئے بھول کر
یوں دے رہا ہے اک دلاسا اب کوئی

کچھ دیر پہلے ہی جلایا ہے دیا
چکر لکے گا پھر ہوا کا اب کوئی

جو ڈوب جائے ان نشیلی آنکھوں میں
اس کو نہیں ملتا کنارا اب کوئی

کتنی اداسی سج رہی ہے شہر میں
جیسے مری ہو اک تمنا اب کوئی

شاکر میسر ہی نہیں پل کا سکوں
آ ڈھونڈ لیتے ہیں مسیحا اب کوئی

Rate it:
Views: 159
31 Jan, 2026
More Sad Poetry