کاش، کبھی، کسی دن، کوئی تو تیرا پیغام آئے
Poet: Rukh By: Rukh, Karachi کاش، کبھی، کسی دن، کوئی تو تیرا پیغام آئے
یاد مجھے تُو کر بیٹھے ، کوئی تو ایسی شام آئے
پیاس اس کی بجھانی ہے، پیاسا رہا جو عمر بھر
لبوں سےتیرےیہ نکلے،جب سامنےتیرے جام آئے
تیری محبت میں سیکھ رہا ہوں دنیا کا ہر فن
نہ جانے تُو کبھی ، کسی دن، کب ، کونسا کام آئے
ہے دعا کہ تُو مانگے،ساتھ رُخؔ کا کچھ اس طرح کا
جیسےپہلی تختی میں ہمیشہ"م" سے پہلے "ل" آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






