کون کرتا ہے جہاں میں جستجو میرے لیے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiکون کرتا ہے جہاں میں جستجو میرے لیے
کون کرتا ہے جہاں میں جستجو میرے لیے
تیری یادیں قریہ قریہ کو بہ کو میرے لیے
ایک مدت سے یہ خواہش ہے کبھی تنہائی میں
وہ بھی آ جائے نظر کے روبرو میرے لیے
زندگی سے بے خبر شہرِ ہوس کی بھیڑ میں
زیست کا سایہ ہوا بے آبرو میرے لئے
دشمنوں میں بیٹھ کر وہ دشمنوں کی بزم میں
کر رہا ہے اب بھی ظالم گفتگو میرے لیے
عشق کی دنیا الگ ہے عشق کا مسلک الگ
عشق کا رشتہ ہے دیکھو خوب رو میرے لیے
کارزارِ زندگی کی راہ میں اے وشمہ خان
سوچتی ہوں بہہ نہ جائے پھر لہو میرے لئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






